اتنا سوچ لو جاناں

اتنا سوچ لو جاناں پریم کی چتاؤں میں زندہ جلنا پڑتا ہے اتنا سوچ لو جاناں ایسا کرنا پڑتا ہے خواب تم نے دیکھے ہیں منزلوں کو دوری پر منزلوں سے پہلے ہی راستے میں مجبوری بے شمار اندیشے خوا ب توڑ دیتے ہیں جن کو اپنا کہتے ہیں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں وہ، انا کی دیواریں اس طرح اٹھاتے

مكمل تحریر پڑھیںََ

اپسرا (دم رخصت)

اپسرا کی اداس آنکھوں میں درد صدیوں کے یوں اترآئے جیسے صحرا کی پیاس مرجائے۔ ٹوٹے تاروں کی کرچیاں بکھریں زخمی آنکھوں نے مُوند لیں پلکیں خالی ہاتھوں سے پونچھ کرآنسو وہ اٹھی سوگوارقدموں سے۔ خالی آنکھوں سے دیکھتی مجھ کو میرے خیمے کو الوداع کہتی دوروہ آسمان میں ڈوب گئی بے نشاں نقش اس ہونٹوں کے خالی ہاتھوں پہ

مكمل تحریر پڑھیںََ

جو زندگی میں تم ہو

یہ زندگی کبھی جو مفلس کی بے کسی تھی دنیا کی بے حسی پر اک زندہ خود کشی تھی بجھتے ہوئے سے شعلوں میں جھلملاتی آنکھیں خاموش پڑتی آہیں ٹوٹے ہوئے سے سپنے ہارا ہوا جنوں تھا اتنے بڑے جہاں میں اک آشنا نہیں تھا اور ہو چلا یقیں تھا کوئی آشنا نہ ہوگا سود و زیاں کی دنیا میں

مكمل تحریر پڑھیںََ

اپسرا

میں تو سمجھا تھا زندگی کا سفر اب کسی موڑ پر نہ خم ہوگا اپنے صحرا میں اب گلستاں ہے اب نہ کوئی نقش پا بہم ہوگا علم کی سنگلاخ وادی میں اب نہ کوئی اپسرا ہی اترے گی اپنے اس پرسکون ساحل سے اب نہ کوئی موج آ کے الجھے گی موج پر اپنی موج میں آئی اپسرا، آسماں

مكمل تحریر پڑھیںََ