قرآن کے ایک اسلوب کی وضاحت

قرآن کے ایک اسلوب جو بہت سے لوگوں کے لیے غلط فہمی کا سبب بن جاتا ہے، اس کی وضاحت یہاں مقصود ہے۔ :درج ذیل آیات پر غور کیجیے مَن يَشَإِ اللَّـهُ يُضْلِلْـهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (سورہ الروم، 30:21) اللہ جسے چاہتا ہے، گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے، سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے۔ فَيَغْفِرُ

مكمل تحریر پڑھیںََ

دین میں معیارِ حق، شخص یا اصول

دین اسلام میں کسی شخص کی مطلق اطاعت اور اندھی تقلید کا تصور موجود نہیں ہے۔ کسی انسانی شخصیت کو مطلقاً معیارِ حق قرار نہیں دیا گیا۔ دین میں معیارِ حق، وحی اور اس کے طے کردہ اخلاقی اور شرعی اصول اور قوانین ہیں۔ چنانچہ دینی شخصیت خواہ کوئی بھی ہو، اس کے اقوال، افعال اور اعمال کو دین و

مكمل تحریر پڑھیںََ

کیا قرآن اپنے ثبوت کے لیے خبر واحد کا محتاج ہے؟

مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ایک نقطہ نظر پر چند گزارشات مولانا زاہد الراشدی صاحب وہ شخصیت ہیں جن کو پڑھ کر دین جاننے اور مزید جاننے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے ان کی تحاریر سے بہت کچھ سیکھا۔ تاہم، ان کے ایک موقف سے کچھ اختلاف پیدا ہوا ہے۔ جو اہل علم و نطر کی خدمت میں

مكمل تحریر پڑھیںََ

قرآن مجید میں خدا کے وعدوں کو خدا کا حکم سمجھنے کی غلطی فہمی

اسلام کے سیاسی غلبے کو دینی فریضہ قرار دینے کے حق میں یہ استدلال ایک بنیادی استدلال کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام سے فتح و نصرت کے وعدے کیے تھے جو ان کے حق میں پورے ہوئے۔ یہی وعدے دیگر اہل ایمان کے لیے بھی عام ہیں۔ مسلمان اگر

مكمل تحریر پڑھیںََ

عورت کو بیک وقت ایک سے زائد شوہروں کی اجازت کیوں نہیں؟

اگر یہ بدیہی حقیقت تسلیم کر لی جائے کہ نکاح سے خاندان کا ادارہ وجود میں لانے کی وجہ بچے کی نگہداشت اور پرورش ہے، پھر یہی انسان جب بڑھاپے کو پہنچتا ہے تو اسے پھر خاندان کے ادارے کی ضرورت ہے جو اب اس کی دیکھ بھال کرے۔ انسان کی پوری زندگی کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے

مكمل تحریر پڑھیںََ

حفظ قرآن کی رسم پر نظر ثانی کی ضرورت (2)

ماہنامہ اشراق ماہ جون 2019 کے شمارےمیں میرا مضمون “حفظ قرآن کی رسم پر نظر ثانی کی ضرورت” شائع ہوا جس پر ملک کے متعدد اہل علم نے التفات کرتے ہوئے اپنے نکاتِ اعتراضات پیش کیے جن میں مفتی منیب الرحمن صاحب کا نقد، بعنوان، “کیاحفظِ قرآن بدعت ہے؟” ان کے فیس بک کے آفیشل پیچ پر شائع ہوا (

مكمل تحریر پڑھیںََ

حریت فکر کے دو علم بردار:حضرت موسیٰ اور حضرت عمر کی شخصی و فکری مماثلتیں

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے درمیان بہت سی طبعی اور مزاجی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔دونوں شخصیات غیرت و حمیت، جرأت و بہادری، عقل و بصیرت، حریت فکر، جرأت اظہار اور قائدانہ کردار کا مجسم استعارہ ہیں۔ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر حضرت عمر کو حضرت

مكمل تحریر پڑھیںََ

پردہ کے احکام

مسلم خواتین کے پرد ہ کی حدود و قیود ایک معرکۃالآرا مباحثہ بناچلاآ رہا ہے۔خواتین کے حجاب کے مسئلے میں بہت افراط و تفریط برتی گئی ہے۔ اس سے بہت سے پیچیدہ قسم کے عملی نوعیت کے مسائل نے جنم لیا ہے۔ اہل مذہب کے ہاں رائج حجاب کا تصور اور اس کی عملی صورتوں میں وقت، ماحول اور کلچر

مكمل تحریر پڑھیںََ

مولانا ظفر علی خان کا ایک مشہور شعر اور قرآن کی ایک آیت کے ساتھ اس کےمعنوی اشتراک کے بارے میں ایک مغالطہ

مولانا ظفر علی خان کا یہ مشہور شعر : خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا قرآن کی آیت: انَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ سے ماخوذ سمجھا جاتا ہے۔ اس بارے چند غلط فہمیاں دور کرلی جانی چاہیے۔ پہلی بات یہ

مكمل تحریر پڑھیںََ