مشرکین کے حق میں حضرت ابراہیم اور حضرت عیسی علیھما السلام کی دعاؤں کا اسلوب

کسی مجرم کو صاحبان اختیار (مثلا عدالت، پولیس وغیرہ) کے حوالے کرتے ہوئے، اگر ہمارے الفاظ یوں ہوں کہ صاحب، مجرم حاضر ہے۔ آپ مہربان شخصیت اور معاف کرنے والے ہیں۔ یا اس موقع پر یوں کہا جائے صاحب، آپ کا اختیار ہے۔ ان کے ساتھ جو چاہے سلوک کریں، اگر معاف کر دیں آپ کو اس کا بھی اختیار

مكمل تحریر پڑھیںََ

غامدی صاحب کے ترجمہ قرآن، ‘البیان’ کا مختصر تعارف اور چیدہ چیدہ خصوصیات

جاوید غامدی صاحب نے ‘البیان’ کے نام سے نظمِ قرآن کی روشنی میں قرآن مجید کا ایسا مربوط اور مسلسل ترجمہ کیا ہے، جس کی نظیر قرآن مجید کے لٹریچر میں موجود نہیں۔ یہ ترجمہ علامی حمید الدین فراہی کے اصول تفسیر کے تتبع میں اور مولانا امین احسن اصلاحی کی مایہ ناز تفسیر تدبر قرآن کے تفسیری نوٹس کی

مكمل تحریر پڑھیںََ

آخرت کی نجات کے اصول

ہم اس اہم مسئلے پر اپنی مختصر معروضات چند نکات کی صورت میں پیش کرتے ہیں: قرآن کے مطابق لوگوں سے مواخذہ ان کی عقل و فطرت اور میسر علم کی بنا ہر ہوگا۔ اقرار خداوندی لازمہ فطرت ہے۔ اس کا سوال بلا امتیاز سب صحیح العقل انسانوں سے ہوگا: وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ

مكمل تحریر پڑھیںََ

اقدامِ حسین، اسوہ انبیا کی روشنی میں (مختصر)

انبیا کی دعوت اور اصلاحی تحریکوں کا مقصد ایمان باللہ اور آخرت کی جواب دہی کی بنیاد پر نفوس کا تزکیہ اور اصلاح ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کبھی ایک صالح معاشرہ بھی وجود میں آ جاتا تھا، لیکن اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے ہتھیار اٹھانا ان کی پالیسی میں شامل نہیں ہوتا۔ دعوتِ دین و اصلاح

مكمل تحریر پڑھیںََ

اصلاح احوال کے لیے اقدامِ حسین کا تجزیہ اسوہ انبیا کی روشنی میں

دین میں ایمان و عمل کا حتمی معیار وحی الہی ہے۔ کسی شخص کا کوئی عمل جو دینی استناد کا مدعی اور مقتضی ہو اسے وحی کی کسوٹی پر پرکھ کرقبول یا رد کرنا ضروری ہے۔ وحی، انبیا علیھم السلام کے اعمال پر بھی نگران ہے جو ان کی اعمال کا محاکمہ کرتی ہے۔ اس کسوٹی پر پورا اترنے کی

مكمل تحریر پڑھیںََ

خلافت کے اثبات میں ناگزیریت کی بحث، محترم ڈاکٹر زاہد مغل کے جواب میں

خلافت کی دینی حیثیت کے اثبات کے لیے ناگزیریت کے عنوان سے ہمارے دوست جناب ڈاکٹر زاہد مغل نے ایک مقدمہ قائم کیا ہے۔ اس کے مطابق انسانوں کے درمیان حقوق و فرائض اور عدل و قسط کا قیام ایک ناگزیر تقاضا ہے، اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے جس قوت نافذہ کی ضرورت ہے، اس کا قیام بھی

مكمل تحریر پڑھیںََ