فقہ کی عدالت میں میں نابالغ بچی کے ساتھ ریپ کی سزا

محترم، ڈاکٹر مشتاق صاحب، اپنے مقالے،‘The Crime of Rape and the Hanafi Doctrine of Siyasa’، میں امام سرخسی کی کتاب، ‘المبسوط’ کے حوالے سے نابالغ بچی کے ریپ کی سزا کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “If a person coerces a minor girl for sex causes damage to her, hadd punishment will not be imposed on him because the act

مكمل تحریر پڑھیںََ

نکاح کےلیے عمر کی تحدید کا مسئلہ (مختصر)

نکاح کے لیے عمر کی تحدید کا مسئلہ (مختصر) پاکستان کے ملکی قانون میں نکاح کے لیے لڑکے کی کم سے کم عمر 18 سال اور لڑکی کےلیے 16 سال مقرر کی گئی ہے۔ ایک جدید بِل میں لڑکی کے لیے بھی کم سے کم عمر 18 سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کی خلاف ورزی کرنے پرجرمانہ

مكمل تحریر پڑھیںََ

نکاح کے لیے عمر کی تحدید کا مسئلہ

: تمہید دنیا کے بیشتر مھذب ممالک میں لڑکا اور لڑکی دونوں کے نکاح کی عمر کم و بیش18 سال مقرر ہے۔ اسی تناظر میں بہت سے مسلم ممالک بشمول پاکستان میں بھی نکاح کے لیے عمر کی تحدید کی گئی ہے۔ پاکستان کے عائلی قانون میں نکاح کے لیے لڑکے کی کم سے کم عمر 18 سال اور لڑکی

مكمل تحریر پڑھیںََ

فقہ کی عدالت میں میں نابالغ بچی کے ساتھ ریپ کی سزا

محترم، ڈاکٹر مشتاق صاحب، اپنے مقالے،‘The Crime of Rape and the Hanafi Doctrine of Siyasa’، میں امام سرخسی کی کتاب، ‘المبسوط’ کے حوالے سے نابالغ بچی کے ریپ کی سزا کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “If a person coerces a minor girl for sex causes damage to her, hadd punishment will not be imposed on him because the act

مكمل تحریر پڑھیںََ

عورت کو بیک وقت ایک سے زائد شوہروں کی اجازت کیوں نہیں؟

اگر یہ بدیہی حقیقت تسلیم کر لی جائے کہ نکاح سے خاندان کا ادارہ وجود میں لانے کی وجہ بچے کی نگہداشت اور پرورش ہے، پھر یہی انسان جب بڑھاپے کو پہنچتا ہے تو اسے پھر خاندان کے ادارے کی ضرورت ہے جو اب اس کی دیکھ بھال کرے۔ انسان کی پوری زندگی کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے

مكمل تحریر پڑھیںََ

ایک نہایت اہم کتاب “نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل” از ڈاکٹر محی الدین غازی، پر تبصرہ

ڈاکٹر محی الدین غازی انڈیا سے تعلق رکھنے والے، دینی علوم کے ماہر اور متوازن فکر کی حامل شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر صاحب وحدتِ امت کے ایک متحرک داعی ہیں۔ غازی صاحب کی کتاب، “نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل”، ایک نہایت ہی اہم موضوع پر ایک چشم کُشا کتاب ہے، جس سے دین کے اندر علم کا ایک

مكمل تحریر پڑھیںََ

فطرت بطور معیار

فطرت سے مراد انسانوں میں پائے جانے والے وہ عمومی پیدایشی رجحانات ہیں، جو انسانی شعور کو حق و باطل,خیر و شر، اور طیبات و خبائث میں تمیز کی صلاحیت عطا کرتے ہیں۔ وحی کی عمارت انہیں بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ فطرتِ انسانی ان اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، اس بحث کو ہم تین سطح پر دیکھتے

مكمل تحریر پڑھیںََ

2013 کے انتخابات کے دوران مولانا فضل الرحمن کی زبان سے سننا کو ملا، کہ عمران خان کو ووٹ دینا”شرعًا حرام” ہے۔ بعد میں مولانا صاحب نے خود بھی عمران خان کے اتحاد فرما لیا۔

فتوی کی زبان میں فروعی مسائل (یعنی نئے مسائل جن کا ذکر قرآن و حدیث میں نہ ہو) کے احکامات کے لیے شرعًا اور قطعًا جیسے الفاظ کااستعمال اہل افتاء کے ہاں عام دیکھنے میں آتا ہے۔ ایسا ہی حال دیگر اہل علم کا بھی ہے جو کسی بھی فروعی یا اطلاقی مسئلے کا حکم بیان کرتے ہوئے ایسا لہجہ

مكمل تحریر پڑھیںََ

زنا بالجبر، جمہور فقہا کا موقف اور ڈاکٹر مشتاق صاحب

زنا بالجبر کی حالیہ بحث کے تناظر میں ہمارا نقد، زنا بالجبر یا عصمت دری کے عمومی فقہی موقف پر تھا جو زنا بالرضا اور زنا بالجبر کو ایک ہی جرم تصور کرتا ہے، پھر اگر اس جرم کی فقہی (شرعی) نصاب شھادت (چار مرد عینی گواہ) میسر نہ ہوں تو اس مسئلے کو سیاستہ حل کرنا تجویز کرتا ہے۔

مكمل تحریر پڑھیںََ