خاتم النبیین کا درست مفہوم

آیت ختم نبوت پر احمدی حضرات کے ملاحظات درج ذیل ہیں: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا٘ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَﵧ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا. (الاحزاب٣٣: ٤٠) ’’محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ اور اللہ ہر چیز سے با خبر ہے۔‘‘ احمدی حضرات کے ترجمے

مكمل تحریر پڑھیںََ

ایمان بالغیب کا راستہ: تسلیم، مشاہدہ یا استدلال

انسان کے پاس حصول علم کے دو ذرائع ہیں: تجربہ و مشاہدہ اور عقلی استدلال۔ عقل، تجربہ و مشاہدہ کے ذریعے سے حاصل ہونے والے معلوم سے نامعلوم پر استدلال کرتی ہے۔ ثابت شدہ کی بنیاد پر غیر ثابت کو استدلال و استنباط کے طریقے سے پہلے مفروض کرتی اور پھر دستیاب شواہد کی بنیاد پر استدلال سے اس کا

مكمل تحریر پڑھیںََ

معرکہ حق و باطل ابلیس کی وجہ سے برپا نہیں ہوا

اللہ تعالی نے ابلیس کے انکار سے پہلے اپنا منصوبہ بتایا تھا کہ وہ زمین میں اپنا خلیفہ بھیج رہا ہے۔ فرشتوں نے ابلیس کے انکار سے پہلے کہا کہ انسان زمین میں فساد مچائے گا۔ کیونکہ آزاد ارادہ کا ایک نتیجہ اس کا غلط استعمال ہے۔ نیز جنات کے بارے میں تجربہ ہو چکا تھا کہ انہوں نے زمین

مكمل تحریر پڑھیںََ

قرآن مجید کے حفظ کی رسم پر نظر ثانی کی ضرورت

قرآن مجید کے حفظ کی رسم صدیوں سے مسلم سماج میں رائج ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کی حفاظت کا ذریعہ اور باعث اجر و سعادت ہے ۔ یہ تصور چند غلط فہمیوں پر مبنی ہے۔ قرآن مجید کا مقصد اس کے کلام اور پیام کا ابلاغ ہے : {كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ

مكمل تحریر پڑھیںََ

خدا کی رحمت اور عدل: ایک حقیقت کے دو نام

فطرت الہی اور فطرت انسان کی مشترکہ اساسات اور احساسات: فطرت الہی کو جاننے اور سمجھنے کا راستہ فطرت انسانی ہے۔ {فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ} [الروم: 30] “تم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کرو، جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیاہے۔” اخلاقیات اور جمالیات کے باب میں انسانوں

مكمل تحریر پڑھیںََ

قرآن کے ایک اسلوب کی وضاحت

قرآن کے ایک اسلوب جو بہت سے لوگوں کے لیے غلط فہمی کا سبب بن جاتا ہے، اس کی وضاحت یہاں مقصود ہے۔ :درج ذیل آیات پر غور کیجیے مَن يَشَإِ اللَّـهُ يُضْلِلْـهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (سورہ الروم، 30:21) اللہ جسے چاہتا ہے، گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے، سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے۔ فَيَغْفِرُ

مكمل تحریر پڑھیںََ

دین میں معیارِ حق، شخص یا اصول

دین اسلام میں کسی شخص کی مطلق اطاعت اور اندھی تقلید کا تصور موجود نہیں ہے۔ کسی انسانی شخصیت کو مطلقاً معیارِ حق قرار نہیں دیا گیا۔ دین میں معیارِ حق، وحی اور اس کے طے کردہ اخلاقی اور شرعی اصول اور قوانین ہیں۔ چنانچہ دینی شخصیت خواہ کوئی بھی ہو، اس کے اقوال، افعال اور اعمال کو دین و

مكمل تحریر پڑھیںََ

کیا قرآن اپنے ثبوت کے لیے خبر واحد کا محتاج ہے؟

مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ایک نقطہ نظر پر چند گزارشات مولانا زاہد الراشدی صاحب وہ شخصیت ہیں جن کو پڑھ کر دین جاننے اور مزید جاننے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے ان کی تحاریر سے بہت کچھ سیکھا۔ تاہم، ان کے ایک موقف سے کچھ اختلاف پیدا ہوا ہے۔ جو اہل علم و نطر کی خدمت میں

مكمل تحریر پڑھیںََ

قرآن مجید میں خدا کے وعدوں کو خدا کا حکم سمجھنے کی غلطی فہمی

اسلام کے سیاسی غلبے کو دینی فریضہ قرار دینے کے حق میں یہ استدلال ایک بنیادی استدلال کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام سے فتح و نصرت کے وعدے کیے تھے جو ان کے حق میں پورے ہوئے۔ یہی وعدے دیگر اہل ایمان کے لیے بھی عام ہیں۔ مسلمان اگر

مكمل تحریر پڑھیںََ