سیاست بازی عوام کی کہانی نہیں ہوتی۔

جس طرح پہلے زمانے میں دو قوموں کے درمیان جنگوں کی وجہ بادشاہوں کے امنگیں ہوا کرتی تھیں، عوام کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا تھا مگر مورخین غلط طورپر ان کے انفرادی یا گروہی مفاداتی اقدامات کو قوموں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں، جیسے عربوں یا افغانیوں نے ہندستان پر حملے کیے اور ہندوستان کی اقوام

مكمل تحریر پڑھیںََ

مثالیت پسندی اور حقیقت پسندی کی جنگ: عمران خان اور پیروکار

ہر شخص میں مثالیت پسندی اور حقیقت پسندی دونوں رجحانات کسی نہ کسی درجے میں ایک تناسب سے موجود ہوتے ہیں۔ کسی ایک رجحان کا غلبہ انسان کو مثالیت پسند یا حقیقت پسند بنا دیتا ہے۔ مثالیت پسندی دستیاب ذرائع سے آگے بڑھ کر تبدیلی چاہتی ہے جب کہ حقیقت پسندی دستیاب ذرائع اور ممکنات کے دائرے میں حکمت عملی

مكمل تحریر پڑھیںََ

آزادی کس سے؟غیر قوم سے یا استحصال سے؟

تاریخ قوم کی اجتماعی یاداشت ہوتی ہے۔ یاد رہے تو مشعل راہ بن جاتی ہے، بھول جائے تو انسان بار بار پہیہ ایجاد کرتا رہتا ہے۔ یہ تاریخی حقائق ہیں کہ تقسیم ہند سے پہلے جب بنگالیوں کا استحصال ہوتا تھا تو ان کے قائدین، دانش وروں اور مصلحین انہیں سمجھایا کرتے تھے کہ تمہارا استحصال تمہارے مسلمان ہونے کی

مكمل تحریر پڑھیںََ

وفاقی اکائیوں کا علیحدگی کا حق

ریاست کےوفاق کی تشکیل میں مختلف علاقائی اکائیوں کی شمولیت ان کی رضامندی سے ہوتی ہے۔ رضامندی کا یہ اصول بالبداہت تقاضا کرتا ہے کہ وفاقی اکائیوں میں کسی وجہ سے رضامندی باقی نہ رہے تو انھیں وفاق سے علیحدہ ہونے کا حق بھی حاصل ہو۔ دنیا کے مہذب ممالک نے اس حق کو تسلیم کیا ۔ ان کے ہاں

مكمل تحریر پڑھیںََ

عام آدمی اور نفرت کا بیانیہ

انڈیا اور پاکستان کے درمیان جب بھی جنگ کی فضا گرم کی جاتی ہے اس میں عام آدمی کا بیانیہ کہیں جگہ نہیں پاتا۔ میڈیا کا ہنگامہ، فوجی افسران اور حکم رانوں کے بیانات اور چند ناسمجھ نوجوانوں کے ڈائیلاگز میں عام آدمی کا بیانیہ کہیں نہیں ہوتا۔ یہ عام آدمی پوری دنیا کے ہر سماج میں ایک جیسا ہوتا

مكمل تحریر پڑھیںََ

اسلام اور جمہوریت۔ ایک جدید تناظر

انسانی زندگی کی اقدار کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ جو ناقابلِ تغیر یا مستقل نوعیت کی ہیں اور دوسری جو تغیر پذیر ہیں۔مستقل اقدار کے لیے اسلام نظام دیتا ہے لیکن متغیر اقدار کے لیے اصول دیتا ہے، نظام نہیں دیتا۔ بہت سے فکری مسائل اس بنیادی فرق کو ملحوظ نہ رکھنے سے پیدا ہوتے

مكمل تحریر پڑھیںََ

جدید تصورِ قومیت اورآزادی اور اسلام

ہر حال میں ہر قیمت پر بیرونی، غیر قومی غاصب حکومت سے آزادی حاصل کرنا دینی مطالبہ نہیں۔ یہ مطالبہ جدید نظریہ قومیت کی پیداوار ہے۔ اگریہ دینی مطالبہ ہوتا تو خدا قرآن میں غلامی کے احکامات نازل نہ کرتا، غلاموں کو آقاؤں کے ساتھ وفاداری کا درس نہ دیتا بلکہ غلامی کے خاتمے کا اعلان کر دیتا۔جب ایسا کچھ

مكمل تحریر پڑھیںََ

قومیت ایک مذھب

زیر ِنظرمضمون امریکی مورخ، کارلٹن جے ایچ ہیز (Carlton J H Hayes, 1882-1964) کے مضمون، Nationalism as a Religion کے ماڈل کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے۔ کارلٹن تصورپہلےقومیت کا حامی تھا، پھر اس کے خیالات اس تصور کے بارے میں مکمل طور پر تبدیل ہو گئے۔ اپنے دور میں قومیت کے نام پر برپا ہونے والی دو عظیم

مكمل تحریر پڑھیںََ

مصلحین کا دائرہ کار اور حکومت کے خلاف قیام کا مسئلہ

دینی و شرعی نقطہ نظر سے مصلحین کے لیے حکومت حاصل کرنا اہم نہیں ہوتا، البتہ حکومت کو حق و انصاف اور فلاح و بہبود کے منہج پر قائم رکھنے کے لیے وعظ، نصیحت، تنقید، اور کلمہ حق کہنا ضروری بلکہ فرض ہوتا ہے، اس سے زیادہ اصلاح چاہنے والوں کی کوئی ذمہ داری دین نے نہیں بتائی۔ کوئی مصلح

مكمل تحریر پڑھیںََ